Zakat-eligible patients: clinic examination is free. مستحقینِ زکوٰۃ کے لیے کلینک میں معائنہ مفت ہے

مریضوں کے لیے معلومات

جگر اور نظامِ ہاضمہ: اردو میں معلومات

عام مسائل کے بارے میں سادہ اردو میں عمومی معلومات۔

سینے کی جلن اور تیزابیت (ایسڈ ریفلکس)

معدے کا تیزاب یا کھانا واپس خوراک کی نالی میں آ جائے تو سینے میں جلن، منہ میں کھٹا یا کڑوا پانی آنا اور ڈکار جیسی علامات ہو سکتی ہیں۔

  • ایک وقت میں بہت زیادہ کھانے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کھائیں۔
  • رات کے کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم 2 سے 3 گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔
  • بستر کا سرہانے والا حصہ تھوڑا اونچا رکھیں۔
  • وزن زیادہ ہو تو اسے کم کرنا مددگار ہوتا ہے۔
  • سگریٹ اور تمباکو سے پرہیز کریں۔
  • جن چیزوں سے آپ کی جلن بڑھتی ہو انہیں نوٹ کر کے کم کریں۔

ڈاکٹر کو جلد دکھائیں اگر: نگلنے میں دشواری یا درد ہو، بلاوجہ وزن کم ہو، بار بار قے ہو، خون کی قے یا کالا پاخانہ آئے، خون کی کمی ہو، یا علاج کے باوجود علامات برقرار رہیں۔

جگر کی چربی (فیٹی لیور)

جگر میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جائے تو اسے فیٹی لیور کہتے ہیں۔ یہ اکثر موٹاپے، شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کے ساتھ ہوتا ہے۔ ابتدا میں اکثر کوئی علامت نہیں ہوتی۔

  • اگر وزن زیادہ ہو تو وزن کا 5 سے 10 فیصد آہستہ آہستہ کم کریں۔ اس سے جگر کی چربی اور سوزش کم ہو سکتی ہے۔
  • ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تیز چہل قدمی یا ورزش کریں۔
  • میٹھے مشروبات، مٹھائی، بیکری اور تلی ہوئی غذائیں کم کریں؛ سبزیاں، پھل، دالیں، سالم اناج اور مچھلی زیادہ لیں۔
  • شوگر، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھیں اور دوا باقاعدگی سے لیں۔
  • الکحل سے پرہیز کریں۔
  • جگر صاف کرنے کی دواؤں اور نامعلوم جڑی بوٹیوں سے بغیر مشورہ پرہیز کریں۔

ڈاکٹر سے پوچھیں کہ جگر میں زخم (سکارنگ) تو نہیں، اس کے لیے خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ یا فائبرو اسکین جیسے معائنے ہو سکتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس بی اور سی

ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس سے ہونے والی جگر کی بیماریاں ہیں۔ دونوں خون کے ذریعے پھیل سکتی ہیں؛ ہیپاٹائٹس بی ماں سے بچے کو اور غیر محفوظ جنسی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ برسوں تک کوئی علامت نہ ہونا عام ہے، اس لیے ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔

  • ہر انجکشن کے لیے نئی اور سیل بند سرنج استعمال کریں۔ دانتوں، حجامت اور کان ناک چھیدنے میں جراثیم سے پاک آلات پر اصرار کریں۔
  • ریزر، ٹوتھ برش اور ناخن کاٹنے والے آلات مشترک نہ کریں۔
  • ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کی ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔ بچوں اور بڑوں سب کو لگوائی جا سکتی ہے۔
  • ہیپاٹائٹس سی کا آج کل گولیوں سے علاج ممکن ہے اور اکثریت میں وائرس ختم ہو جاتا ہے۔ پہلے خون کا ٹیسٹ (HCV RNA) اور ڈاکٹر کا معائنہ ضروری ہے۔
  • ہیپاٹائٹس بی عموماً مکمل ختم ہونے کے بجائے دوا سے قابو میں رکھی جاتی ہے۔ ہر مریض کو فوری دوا کی ضرورت نہیں ہوتی مگر باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
  • ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں۔

ایچ پائلوری (H. pylori)

ایچ پائلوری معدے میں رہنے والا ایک جرثومہ ہے جو معدے کی سوزش اور السر کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا پتا سانس کے ٹیسٹ، پاخانے کے ٹیسٹ یا اینڈوسکوپی کی بایوپسی سے چلتا ہے۔

  • علاج میں عموماً کئی اینٹی بائیوٹکس اور تیزابیت کم کرنے والی دوا شامل ہوتی ہے۔ پورا کورس مکمل کریں۔
  • خود سے اینٹی بائیوٹکس شروع نہ کریں اور کورس ادھورا نہ چھوڑیں۔
  • علاج کے بعد کم از کم 4 ہفتے گزر جانے پر دوبارہ ٹیسٹ کروائیں تاکہ معلوم ہو کہ جرثومہ ختم ہوا یا نہیں۔

قبض

اگر ہفتے میں تین بار سے کم پاخانہ آئے، پاخانہ سخت ہو یا زور لگانا پڑے تو اسے قبض کہتے ہیں۔

  • ریشے دار غذا کھائیں: سبزیاں، پھل، دالیں اور سالم اناج۔ ریشہ آہستہ آہستہ بڑھائیں۔
  • پانی کافی پئیں، مگر اگر ڈاکٹر نے سیال محدود کیے ہوں تو ان کی ہدایت پر عمل کریں۔
  • روزانہ چہل قدمی کریں۔
  • روز ایک مقررہ وقت، خصوصاً ناشتے کے بعد، بیت الخلا جائیں اور جلدی نہ کریں۔
  • جلاب اور مسہل دوائیں بغیر مشورہ مسلسل استعمال نہ کریں۔

پاخانے میں خون، وزن کا کم ہونا، خون کی کمی، یا چند ہفتوں میں عادت میں نئی تبدیلی ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔

آنتوں کی حساسیت (آئی بی ایس)

آئی بی ایس میں پیٹ میں درد یا بے آرامی کے ساتھ پاخانے کی عادت بدل جاتی ہے (قبض، دست یا دونوں)۔ یہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے مگر عموماً آنتوں کو نقصان نہیں پہنچاتا اور کینسر کا سبب نہیں بنتا۔

  • باقاعدہ وقت پر کھانا کھائیں، نیند پوری کریں اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں۔
  • کون سی غذائیں تکلیف بڑھاتی ہیں، اس کا ریکارڈ رکھیں۔
  • بعض مریضوں میں ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کی نگرانی میں مخصوص غذائی طریقے آزمائے جاتے ہیں۔
  • ورزش سے اکثر فرق پڑتا ہے۔

پاخانے میں خون، وزن میں کمی، خون کی کمی، یا رات کو نیند سے جگا دینے والے دست یا درد ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

سروسس (جگر کا سکڑ جانا)

سروسس میں جگر میں دیرپا زخم (سکارنگ) بن جاتے ہیں۔ وجوہات میں ہیپاٹائٹس بی، سی، فیٹی لیور، الکحل اور خود مدافعتی بیماریاں شامل ہیں۔

  • بنیادی وجہ کا علاج کروائیں اور الکحل بالکل چھوڑ دیں۔
  • باقاعدہ فالو اپ کروائیں۔ خوراک کی نالی کی رگوں (ویریسز) کے لیے اینڈوسکوپی اور جگر کے کینسر کی جانچ کے لیے عموماً ہر 6 ماہ بعد الٹراساؤنڈ ڈاکٹر کی ہدایت پر ہوتا ہے۔
  • پروٹین بند نہ کریں؛ تھوڑا تھوڑا کئی بار کھائیں۔ پیٹ میں پانی ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے نمک کم کریں۔
  • درد کی دوائیں (جیسے ڈکلوفیناک، آئبوپروفین) اور جڑی بوٹیاں ڈاکٹر سے پوچھے بغیر نہ لیں۔

خون کی قے، کالا پاخانہ، پیٹ میں اچانک پانی بھرنا، بخار کے ساتھ پیٹ درد، الجھن یا غنودگی کی صورت میں فوراً ایمرجنسی میں جائیں۔

اینڈوسکوپی اور کولونوسکوپی

اینڈوسکوپی میں ایک باریک لچکدار نالی (جس کے سرے پر کیمرا ہوتا ہے) کے ذریعے خوراک کی نالی، معدے یا بڑی آنت کو اندر سے دیکھا جاتا ہے، اور ضرورت ہو تو بایوپسی لی جا سکتی ہے۔

  • اوپر والی اینڈوسکوپی سے پہلے عموماً کئی گھنٹے کچھ کھانا پینا منع ہوتا ہے۔ تحریری ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔
  • کولونوسکوپی میں آنت کی صفائی (بائول پریپ) سب سے اہم ہے۔
  • اپنی دواؤں، خصوصاً خون پتلا کرنے والی اور شوگر یا انسولین کے بارے میں پہلے بتائیں اور خود سے بند نہ کریں۔
  • اگر سکون آور دوا دی جائے تو ساتھ کوئی بالغ فرد ہونا چاہیے اور اس دن گاڑی نہ چلائیں۔
  • پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں مگر ممکن ہیں۔ ڈاکٹر طریقۂ کار سے پہلے فائدے اور خطرات سمجھاتا ہے۔

یہ عمومی معلومات ہیں اور معالج کے مشورے کا متبادل نہیں۔ اپنی دوا خود بند یا تبدیل نہ کریں۔ ہنگامی صورت میں قریبی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ جائیں یا ریسکیو 1122 پر کال کریں۔

English version: Patient education: English guides

Zakat-eligible patients: clinic examination is free.

مستحقینِ زکوٰۃ کے لیے کلینک میں معائنہ مفت ہے